25۔ اور ہم نے نوح [30] کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (تو اس نے انھیں کہا کہ) میں تمہیں صاف صاف [31] ڈرانے والا ہوں
[30] سیدنا نوحؑ کا قصہ پہلے سورۃ اعراف کے رکوع نمبر 8 میں بھی گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی مد نظر رکھے جائیں۔ [31] یعنی تمہیں صاف صاف بتا رہا ہوں کہ کن باتوں اور کاموں کے ارتکاب سے تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے اور اس عذاب سے بچنے کے ذرائع کیا ہیں؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔