ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 118

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ
اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔ En
اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے
En
اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

118۔ اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنائے رکھتا مگر وہ اختلاف [131] ہی کرتے رہیں گے
[131] اختلاف کی اصل وجہ:۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں سے کوئی ایک راہ انتخاب کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی ہے اگر یہ آزادی انتخاب و اختیار انسان سے چھین لی جائے تو اختلاف کا ہونا ممکن نہیں رہتا اور جب تک یہ آزادی موجود ہے لوگ اختلاف کرتے ہی رہیں گے نیز اگر یہ آزادی انسان سے چھین لی جائے تو انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے انسان کو خیر و شر کی راہیں سجھا دی گئیں۔ پھر اسی غرض کے لیے انبیاء آئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں لیکن تھوڑے ہی لوگ تھے جنہوں نے اس آزادی انتخاب و اختیار کا درست استعمال کیا زیادہ لوگ ایسے غلط کار ہی ثابت ہوئے جنہوں نے گمراہی کی راہیں اختیار کر کے اپنے آپ کو جہنم کا اہل ثابت کیا۔ یہ ارادہ و اختیار کی قوت انسان کے علاوہ جنوں کو بھی دی گئی ہے انسانوں کی طرح جنوں کی اکثریت بھی گمراہ اور جہنم کی مستحق ہی رہی ہے۔