ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 11

اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
مگر وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے، یہ لوگ ہیں جن کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ En
ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرعظیم ہے
En
سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک بدلہ بھی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ مگر (ان قباحتوں سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں) جنہوں نے صبر [14] کیا اور اچھے عمل کیے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے
[14] اس مقام پر صبر کا لفظ مزاج کے استقلال کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی وہ لوگ جو نہ تو مصیبت کے وقت دل برداشتہ اور مایوس ہوں بلکہ اسے صبر و استقلال سے برداشت کریں اور نہ ہی کسی خوشی کے موقعہ پر آپے سے باہر ہوں بلکہ اپنے آپ کو قابو میں رکھیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لائیں اور مصیبت یا خوشی کے مواقع پر ان کی طبیعت میں غیر سنجیدہ قسم کا اتار چڑھاؤ نمایاں نہ ہو بلکہ وہ ہر حال میں اپنے ذہنی توازن کو برقرار رکھتے ہیں نہ مال و دولت اور آسودگی ان کا مزاج خراب کرتی ہے اور نہ ہی تنگی ترشی کے دوران اپنی ہمت ہار بیٹھتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے اللہ قصور بھی معاف کرتا ہے اور ان کے نیک کاموں کے عوض انھیں بہت زیادہ اجر بھی عطا فرماتا ہے۔