ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 105

یَوۡمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ شَقِیٌّ وَّ سَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾
جس دن وہ (وقت) آئے گا، کوئی شخص اس کی اجازت کے سوا بات نہیں کرے گا، پھر ان میں سے کوئی بد بخت ہوگا اور کوئی خوش قسمت۔ En
جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
En
جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ جب یہ دن آجائے گا تو اللہ کے اذن کے بغیر کوئی شخص کلام [117] بھی نہ کر سکے گا۔ پھر ان لوگوں میں کچھ بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
[117] اللہ کے ہاں سفارش کی کڑی شرائط:۔
اس آیت سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ہمیں اولیاء کے تذکروں میں بکثرت ایسی حکایات ملتی ہیں کہ فلاں بزرگ اکڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اپنے ایک ایک مرید کو بخشوائے بغیر راضی نہ ہوں گے اور نہ خود جنت میں داخل ہوں گے اور بالآخر وہ اللہ میاں کو اپنی بات منوا کے ہی چھوڑیں گے حالانکہ وہ دن ایسا سخت ہو گا کہ انبیاء بھی اللہ کے حضور لوگوں کی سفارش کرنے سے ہچکچائیں گے اور بالآخر قرعہ فال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے گا اور وہی اللہ کے حضور سفارش کریں گے۔ بلا شبہ دوسرے انبیاء اور بعض دوسرے نیک لوگوں کی سفارش کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے مگر اس سفارش کے لیے بڑی کڑی شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ صرف وہی شخص سفارش کر سکے گا جس کو اللہ کی طرف سے اجازت حاصل ہو گی اور وہ بھی صرف اس شخص کے حق میں سفارش کر سکے گا جس کے حق میں اللہ کو منظور ہو گا اور خاص اس جرم کے لیے جس کی سفارش اللہ کو منظور ہو گی لہٰذا ایسی سفارش پر بھروسہ کرنے والوں کو وہاں سخت مایوسی سے دو چار ہونا پڑے گا۔