[2] اہل عرب عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کر دیتے تھے۔ حالانکہ حقیقتاً میراث کے وہ ضرور حقدار ہونا چاہئیں۔ لیکن اہل عرب کا دستور تھا کہ جو شخص میت کے وارثوں سے زیادہ با اثر اور زور آور ہوتا وہی ساری میراث پر قبضہ جما لیتا تھا اور یتیموں کو دھتکار دیتا تھا۔ یہ ان کی زرپرستی اور انکار آخرت کا نتیجہ تھا۔ نیز اگر کوئی یتیم ان سے مدد مانگنے آتا تو اس سے برا سلوک کرتے تھے۔ اور اس کے اصرار پر دھکے مار کر دفع کر دیتے تھے اور اگر کوئی کسی یتیم کی پرورش کا ذمہ لیتا بھی تھا تو اسے ڈانٹ ڈپٹ ہی کرتا رہتا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔