اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۱﴾
کیا تونے اس شخص کو دیکھا جو جزا کو جھٹلاتا ہے۔
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روزِ) جزا کو جھٹلاتا ہے؟
کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو روز جزا [1] کو جھٹلاتا ہے
[1] دین کے چار معنی :۔
دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی کامل اور مکمل حاکمیت
(2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی
(3) قانون جزا و سزا
(4) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت۔
کفار مکہ ان چاروں باتوں کے منکر تھے۔ وہ صرف ایک اللہ ہی کو الٰہ نہیں مانتے تھے بلکہ اپنی عبادت میں دوسرے معبودوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اللہ کے قانون جزا و سزا کے بھی منکر تھے اور آخرت کے بھی۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن تبصرہ کفار مکہ پر ہے کہ انکار آخرت نے ان میں کون سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں پیدا کر دی تھیں۔
(1) اللہ تعالیٰ کی کامل اور مکمل حاکمیت
(2) انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی
(3) قانون جزا و سزا
(4) قانون جزا و سزا کے نفاذ کی قدرت۔
کفار مکہ ان چاروں باتوں کے منکر تھے۔ وہ صرف ایک اللہ ہی کو الٰہ نہیں مانتے تھے بلکہ اپنی عبادت میں دوسرے معبودوں کو بھی شریک کرتے تھے۔ اللہ کے قانون جزا و سزا کے بھی منکر تھے اور آخرت کے بھی۔ اس آیت میں اگرچہ بظاہر خطاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن تبصرہ کفار مکہ پر ہے کہ انکار آخرت نے ان میں کون سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں پیدا کر دی تھیں۔