ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 89

قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۹﴾
فرمایا بلاشبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے پر ہرگز نہ چلو جو نہیں جانتے۔ En
خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا
En
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم ﺛابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راه نہ چلنا جن کو علم نہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہو چکی تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو [99] جو علم نہیں رکھتے
[99] کامیابی کے لئے صبر و استقلال کی اہمیت:۔
پیغمبروں کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اور مسلمانوں کی جماعت کو صبر، استقلال اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود صرف دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں ان کی طرف مطلقاً التفات نہ کرو کیونکہ ان کا یہ نظریہ محض جہالت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی تمہیں ان لوگوں سے نجات دے دے گا۔