پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے
En
75۔ پھر اس کے بعد ہم نے اپنے معجزے دے کر موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ اکڑ گئے [89] اور وہ تھے ہی مجرم لوگ
[89] سیدنا موسیٰ کے فرعون سے مطالبات اور اس کا جواب:۔
سیدنا موسیٰؑ اور ہارونؑ کا قصہ پہلے سورۃ اعراف (آیت نمبر 103 تا 171) میں پوری تفصیل سے گزر چکا ہے لہٰذا ان حواشی کو بھی مد نظر رکھا جائے جو پہلے پیش کیے جا چکے ہیں جب یہ دونوں پیغمبر، فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں پہنچے تو انھیں دو باتوں کی دعوت دی۔ ایک یہ کہ صرف ایک ہی سچے معبود پر ایمان لاؤ اور اسی کی عبادت کرو اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کر دو۔ ظاہر ہے کہ فرعون جیسے جابر اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے والے حکمران کو یہ دعوت کسی طرح بھی راس نہ آسکتی تھی لہٰذا اس نے فوراً یہ مطالبہ پیش کر دیا کہ تم فی الواقع اللہ کے پیغمبر ہو تو اپنی نبوت کی تصدیق کے طور پر کوئی نشانی پیش کرو۔ اس پر سیدنا موسیٰؑ نے اپنا عصا زمین پر پھینک دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کر گیا اور دوڑنے لگا جس سے فرعون اور اس کے سب درباری ڈر کر موسیٰؑ کی طرف ملتجیانہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ آپ نے اس اژدہا کو پکڑ لیا اور وہ پھر سے عصا بن گیا پھر سیدنا موسیٰؑ نے دوسری نشانی بھی دکھلائی۔ اپنا داہنا ہاتھ اپنی بغل میں رکھا پھر نکالا تو وہ چمک رہا تھا اور اس سے سفید رنگ کی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ آپ نے پھر اسے اپنی بغل میں رکھا تو وہ اپنی اصل حالت پر آگیا۔ یہ دونوں نشانیاں اور سیدنا موسیٰؑ کی بے مثال جرأت دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری دل میں ڈر گئے۔ انھیں یہ یقین ہو گیا کہ موسیٰؑ اور اس کا بھائی دونوں اللہ کے سچے پیامبر ہیں اور وہ ان خطرات کو بھی بھانپ رہے تھے جو ان کو پیش آنے والے تھے لیکن وہ اپنی صورت حال کو رعایا سے چھپانا بھی چاہتے تھے۔ لہٰذا ان معجزات کو جادو قرار دے دیا اور موسیٰؑ کو جادوگر۔ اور اس سے ان کا مقصد صرف اپنی رعایا کو الو بنانا تھا اور انھیں یہ تاثر دینا تھا کہ جس طرح دوسرے جادوگر شعبدہ بازیاں دکھلاتے ہیں اسی طرح کے یہ بھی شعبدے ہیں لہٰذا ان سے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔