پھر اس کے بعد ہم نے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے۔ سو وہ ہرگز ایسے نہ تھے کہ اس پر ایمان لاتے جسے اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں۔
En
پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وه ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے پس جس چیز کو انہوں نے اول میں جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے
En
74۔ پھر اس کے بعد ہم نے کئی رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا جو واضح دلائل لے کر ان کے پاس [88] آئے مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس بات کو پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ ایسے ہی ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں
[88] مہر لگانے کا مفہوم:۔
سیدنا نوحؑ کے بعد ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب علیہم السلام کو ہم نے ان کی قوموں کی طرف واضح نشانات دے کر بھیجا تھا۔ ان سب رسولوں سے وہی معاملہ پیش آیا جو سیدنا نوحؑ کو پیش آیا۔ یعنی جب ان لوگوں نے پہلی بار انکار کر دیا تو بس پھر اسی پر ڈٹ گئے اور رسولوں کے ہزار بار سمجھانے کے باوجود بھی ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں جب لوگ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ آئندہ ہدایت قبول کر سکیں اور مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف محض اس حیثیت سے ہوتی ہے کہ اسباب کے مسبب یا نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان اسباب کے اختیار کرنے میں پوری طرح مختار ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کی سزا و جزا اس کے اسباب اختیار کرنے پر ہی مترتب ہوتی ہے گویا مہر لگنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا ہے جو انھیں انکار و مخالفت کے جرم کی پاداش میں ملتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔