ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾
اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے دن میں؟ بے شک اللہ تو لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔ En
اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
En
اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے؟ واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں ان کا قیامت کے دن کے متعلق کیا [75] خیال ہے؟ اللہ تو سب لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
[75] یعنی قیامت کے دن ان حلال اور حرام بنانے والوں سے کیسا سلوک کیا جائے گا؟ اس دن انھیں جو مار پڑے گی اور دکھ کا عذاب سہنا پڑے گا اس کے متعلق بھی ان افتراء پردازوں نے کبھی غور کیا ہے؟ اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان ہے جس نے ہر وقت انھیں ہر اچھے اور برے کام کے انجام سے مطلع کر دیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ لوگ اللہ کی اس مہربانی پر اس کے شکر گزار ہوتے الٹا اس کی حدود کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں پھر اسی کے نام سے منسوب بھی کر دیتے ہیں۔