اور ہر امت کے لیے ایک پیغام پہنچانے والا ہے، تو جب ان کا پیغام پہنچانے والا آتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے۔
En
اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا
47۔ ہر امت کے لئے ایک رسول ہے۔ پھر جب ان کے پاس رسول آتا ہے تو پورے انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ [64] چکا دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا
[64] اور یہ ضابطہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہی مختص نہیں بلکہ تمام امتوں کے متعلق اللہ کا یہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو خبردار کرنے کے لیے اپنا رسول بھیجتا ہے اس طرح لوگوں پر اتمام حجت کرتا ہے پھر کچھ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ اس کا انکار کر کے اس کے درپے آزار ہو جاتے ہیں اس طرح حق اور باطل کی سرد اور گرم جنگ شروع ہو جاتی ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ حق پرستوں کی تائید کرتا ہے اور باطل پرستوں کو ذلت اور عذاب سے دوچار کر دیتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ اس لیے انصاف پر مبنی ہوتا ہے کہ اللہ اتمام حجت سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔