کہہ دے کیا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ بناتا ہو؟ کہہ دے اللہ ہی پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بناتا ہے، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو؟
En
(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو
آپ یوں کہیے کہ کیا تمہارے شرکا میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوباره بھی پیدا کرے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوباره بھی پیدا کرے گا۔ پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟
En
34۔ آپ ان سے پوچھئے: تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو، پھر اسے دوبارہ پیدا بھی کر سکے؟“ آپ کہئے: اللہ ہی خلقت کی ابتدائی [49] بھی کرتا ہے۔ پھر دوبارہ پیدا بھی کرے گا۔ پھر تم یہ کس الٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو
[49] مشرکین مکہ یہ تو تسلیم کرتے تھے کہ اللہ ہی نے انہیں اور ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اس کام میں ان کے شریکوں کا کوئی حصہ نہیں لیکن وہ معاد یا اخروی زندگی کے قائل نہیں تھے اس آیت میں دو باتوں پر ان مشرکوں کو مطلع کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جو ہستی پہلی بار پیدا کر سکتی ہے وہ دوسری بار بھی پیدا کر سکتی ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے سہل تر ہے اور دوسری یہ کہ جب پہلی بار کی تخلیق میں تمہارے معبودوں کا کچھ حصہ نہیں تو دوسری تخلیق میں بھی وہ حصہ دار نہیں ہو سکتے۔ اب تخلیق اول کے متعلق سوال کا جواب قریش مکہ کی زبان سے بیان فرمایا گیا کیونکہ وہ اس بات کے قائل تھے اور تخلیق ثانی یا معاد کے وہ چونکہ قائل نہیں تھے لہٰذا اس کا جواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دلوایا گیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔