ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 17

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۷﴾
پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ En
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے
En
سو اس شخص سے زیاده کون ﻇالم ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلائے، یقیناً ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہوگی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے [26] ایسے مجرم کبھی فلاح [27] نہیں پاتے
[26] سب سے بڑھ کر ظالم کون؟
اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص ایک بات تو خود گھڑے یا تصنیف کرے پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کر دے جیسا کہ مشرکین مکہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خیال مذکور ہوا ہے ایسا شخص بھی سب سے بڑھ کر ظالم ہے اور اگر نبی اپنے قول میں سچا ہے تو اللہ کی آیات کا منکر بھی ویسا ہی سب سے بڑھ کر ظالم ہو گا اور دونوں کے ظلم میں کوئی فرق نہیں۔
[27] نظریہ کی تبدیلی سے فلاح کے معیار میں تبدیلی:۔
فلاح سے مراد کامیابی سے ہم کنار ہونا ہے لیکن نظریہ کی تبدیلی سے کامیابی کا معیار بھی بدل جاتا ہے مثلاً ایک دنیا دار اور آخرت کے منکر کے نزدیک انتہائی کامیابی یہ ہے کہ اسے امن و چین اور عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنا نصیب ہو اور لمبی عمر حاصل ہو جبکہ ایک دیندار اور آخرت پر یقین رکھنے والے کے نزدیک کامیابی کا معیار اخروی عذاب سے نجات ہے اگرچہ وہ بھی اللہ سے فلاح دارین کا طالب ہوتا ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں بھی اسے وہ کچھ نصیب ہوتا ہے جو اس کے مقدر ہوتا ہے لیکن وہ اس دنیا کی مزعومہ کامیابی کو کامیابی کا معیار قرار نہیں دیتا اس آیت میں جس کامیابی کا ذکر ہے اس سے مراد اخروی فلاح ہے یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے یا اس کی آیات کو جھٹلانے والوں کو کبھی اخروی فلاح نصیب نہیں ہو گی۔