ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)
En
7۔ ان لوگوں کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا [14] جن پر تیرا غضب نہیں ہوا اور نہ وہ راہ راست سے بھٹکے [15]
[14] انعام والے اور گمراہ لوگ کون ہیں؟
قرآن کی تصریح کے مطابق ان سے مراد انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ [4: 69] وہ لوگ نہیں جنہیں مال و دولت یا حشمت و جاہ کی فراوانیاں حاصل ہیں۔ اور آپ کے ارشاد کے مطابق ﴿مَغْضُوْبِعَلَيْهِمْ﴾ سے مراد تو یہود ہیں جو گناہ کے کاموں پر دلیر ہو گئے تھے اور ان پر اللہ کا عذاب اور پھٹکار نازل ہوئی اور ضالِّیْن سے مراد عیسائی حضرات ہیں جو فلسفیانہ موشگافیوں میں پھنس کر تثلیث اور گمراہی کا شکار ہوئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ) آیا۔ وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ کہنے لگے کہ یہ عدی بن حاتم ہے جو بغیر کسی کی امان یا تحریر کے آیا ہے۔ چنانچہ مجھے پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پہلے آپ صحابہؓ کو خبر دے چکے تھے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عدی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دے گا۔ پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور میں آپ کے ساتھ تھا (راہ میں) ایک عورت اور اس کا بچہ ملے۔ وہ آپ سے کہنے لگے: ”ہمیں آپ سے کچھ کام ہے“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کا کام پورا کر دیا۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر تشریف لائے۔ ایک لڑکی نے آپ کے لئے بچھونا بچھایا۔ آپ اس پر بیٹھ گئے اور میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر مجھے کہا: ”وہ کون سی بات ہے جو تمہیں لا الٰہ الا اللہ کہنے سے باز رکھتی ہے، کیا تم اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ جانتے ہو؟‘میں نے کہا ’نہیں ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر باتیں کیں پھر پوچھا: ’تمہیں اللہ اکبر کہنے سے کون سی چیز دور رکھتی ہے۔ کیا اللہ سے کسی بڑی چیز کو تم جانتے ہو؟“ میں نے کہا ”نہیں“ پھر آپ نے فرمایا: ”یہود پر تو اللہ تعالیٰ کا غصہ ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“ میں نے کہا کہ میں تو یکطرفہ مسلمان ہوتا ہوں۔ پھر میں نے آپ کے چہرہ پر فرحت و انبساط دیکھی۔ پھر آپ نے میرے بارے میں حکم دیا اور میں ایک انصاری کے ہاں مقیم ہوا۔ اب میں روزانہ صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہوا کرتا۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير۔ سورة فاتحه] دور نبوی میں تو واقعی یہی فرقے ﴿مغضوب عليهم﴾ اور ﴿ضالّين﴾ تھے۔ مگر آج مسلمانوں کے اکثر فرقے ان میں شامل ہو چکے ہیں اور ﴿صراط مستقيم﴾ پر تو مسلمانوں کا صرف وہی فرقہ ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا «مَااَنَاعَلَيْهِوَاَصْحَابِيْ»[ترمذي، كتاب الايمان۔ باب افتراق هذه الامة]
[15] آمین بالجہر کا ثبوت:۔
(1) سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿وَلاَالضَّالِيْنَ﴾ کہے تو تم آمین کہو۔ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گیا۔ اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے“ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة فاتحه نيز كتاب الاذان والجماعة۔ باب فضل التامين] (2) نیز عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ آمین دعا ہے اور عبد اللہ بن زبیرؓ نے اور ان کے پیچھے مقتدیوں نے اس زور سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ [بخاري۔ كتاب الاذان والجماعه۔ باب جهر الامام بالتامين] (3) وائل بن حجرؓ جو عام الوفود یعنی 10ھ میں مدینہ تشریف لائے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپ نے نماز میں ﴿غَيْرِالْمَغْضُوْبِعَلَيْهِمْوَلَاالضَّالِّيْنَ﴾ کہا تو اپنی آواز کو خوب لمبا کر کے آمین کہی۔ [ترمذي۔ ابواب الصلٰوة۔ باب ماجاء فى التامين]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں