ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 63

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿ۙ۶۳﴾
تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟ En
تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟
En
پس تم اپنے پرورش کرنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اصحاب یمین اور مقربین ٭٭
یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔
پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی- الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں، جس کی دلیلیں بہت سی ہیں- ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صفت ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی۔
پھر یہاں آیت «‏‏‏‏وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ» [55-الرحمن:62]‏‏‏‏ فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت «‏‏‏‏ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ» ‏‏‏‏[55-الرحمن:48]‏‏‏‏ کہا تھا یعنی بکثرت مختلف مزے کے میووں والی شاخوں دار۔ یہاں فرمایا آیت «‏‏‏‏مُدْهَامَّتٰنِ» [55-الرحمن:64]‏‏‏‏ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ۔