نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ بیمار پر کوئی تنگی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا وہ اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو پھر جائے گا وہ اسے سزا دے گا، دردناک سزا۔
En
نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے پیچھے رہ جائے) اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے برے دکھ کی سزا دے گا
اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا
En
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔ بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔
ایک مرفوع حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔“ } ۱؎[صحیح بخاری:2928] سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ { تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں }۔ پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔
پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔