ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 31

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۟ اَفَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَاسۡتَکۡبَرۡتُمۡ وَ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمھارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔ En
اور جنہوں نے کفر کیا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے
En
لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو (میں ان سے کہوں گا) کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی گنہ گار لوگ En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا «رحمت» سے مراد جنت ہے۔
جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4850]‏‏‏‏
کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، (‏‏‏‏جب کہا جاتا)‏‏‏‏‏‏‏‏ اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔