ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 84

اِذۡ جَآءَ رَبَّہٗ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿۸۴﴾
جب وہ اپنے رب کے پاس بے روگ دل لے کر آیا۔ En
جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے
En
جبکہ اپنے رب کے پاس بے عیب دل ﻻئے En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟