ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ يس (36) — آیت 18

قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
انھوں نے کہا بے شک ہم نے تمھیں منحوس پایا ہے، یقینا اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمھیں سنگسار کر دیں گے اور تمھیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔ En
وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
En
انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انبیأ و رسل سے کافروں کا رویہ ٭٭
ان کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے۔