ایمان والے مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں مگر یہ کہ تم ان سے بچو، کسی طرح بچنا اور اللہ تمھیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔
En
مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے
مومنوں کو چاہئے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جوایسا کرے گا وه اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو، اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے
En
یہاں اللہ تعالیٰ ترک موالات کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: «يَاأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُوالَاتَتَّخِذُواالْكَافِرِينَأَوْلِيَاءَمِندُونِالْمُؤْمِنِينَأَتُرِيدُونَأَنتَجْعَلُوالِلَّـهِعَلَيْكُمْسُلْطَانًامُّبِينًا»[4-النساء:144] مسلمانوں کو کفار سے دوستی اور محض محبت کرنا مناسب نہیں بلکہ انہیں آپس میں ایمان داروں سے میل ملاپ اور محبت رکھنی چاہیئے، پھر انہیں حکم سناتا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس سے اللہ بالکل بیزار ہو جائے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يٰٓاَيُّهَاالَّذِيْنَاٰمَنُوْالَاتَتَّخِذُوْاعَدُوِّيْوَعَدُوَّكُمْاَوْلِيَاءَتُلْقُوْنَاِلَيْهِمْبِالْمَوَدَّةِ»[60-الممتحنة:1] یعنی مسلمانوں میرے اور اپنے دشمنوں سے دوستی نہ کیا کرو۔ اور جگہ فرمایا «يَاأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُوالَاتَتَّخِذُواالْيَهُودَوَالنَّصَارَىٰأَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْأَوْلِيَاءُبَعْضٍوَمَنيَتَوَلَّهُممِّنكُمْفَإِنَّهُمِنْهُمْ»[5-المائدة:51] مومنو یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہے۔ دوسری جگہ «وَالَّذِينَكَفَرُوابَعْضُهُمْأَوْلِيَاءُبَعْضٍإِلَّاتَفْعَلُوهُتَكُنفِتْنَةٌفِيالْأَرْضِوَفَسَادٌكَبِيرٌ»[8-الأنفال:73] پروردگار عالم نے مہاجر انصار اور دوسرے مومنوں کے بھائی چارے کا ذکر کر کے فرمایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست ہیں تم بھی آپس میں اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیل جائے گا اور زبردست فساد برپا ہو گا۔ البتہ ان لوگوں کو رخصت دے دی گئی جو کسی شہر میں کسی وقت ان کی بدی اور برائی سے ڈر کر دفع الوقتی کے لیے بظاہر کچھ میل ملاپ ظاہر کریں لیکن دل میں ان کی طرف رغبت اور ان سے حقیقی محبت نہ ہو، جیسے صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بعض قوموں سے کشادہ پیشانی سے ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ۱؎[صحیح بخاری:6131] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہار کرے لیکن عمل میں ان کا ساتھ ایسے وقت میں بھی ہرگز نہ دے، یہی بات اور مفسرین سے بھی مروی ہے اور اسی کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے۔ «مَنْكَفَرَبِاللّٰهِمِنْبَعْدِاِيْمَانِهٖٓاِلَّامَنْاُكْرِهَوَقَلْبُهٗمُطْمَبِالْاِيْمَانِوَلٰكِنْمَّنْشَرَحَبِالْكُفْرِصَدْرًافَعَلَيْهِمْغَضَبٌمِّنَاللّٰهِوَلَهُمْعَذَابٌعَظِيْمٌ» [16-النحل:106] جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے ان مسلمانوں کے جن پر زبردستی کی جائے مگر ان کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔
بخاری میں ہے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے۔ ۱؎[صحیح بخاری:6940]۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔ یعنی اپنے دبدبے اور اپنے عذاب سے اس شخص کو خبردار کئے دیتا ہے جو اس کے فرمان کی مخالفت کر کے اس کے دشمنوں سے دوستی رکھے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کرے۔ پھر فرمایا اللہ کی طرف لوٹنا ہے ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ وہیں ملے گا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے بنی اود! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں جان لو کہ اللہ کی طرف پھر کر سب کو جانا ہے پھر یا تو جنت ٹھکانا ہو گا یا جہنم۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔