یا وہ جو تمھیں خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راہ دکھاتا ہے اور وہ جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے خوش خبری دینے کے لیے بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
En
بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے
کیا وه جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راه دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند وباﻻتر ہے
En
آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کر لے۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَبِالنَّجْمِهُمْيَهْتَدُونَ»۱؎[16-النحل:16] ’ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں ‘ «وَهُوَالَّذِيجَعَلَلَكُمُالنُّجُومَلِتَهْتَدُوابِهَافِيظُلُمَاتِالْبَرِّوَالْبَحْرِ» ’ سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کر لیتے ہیں ‘ ۱؎[6-الأنعام:97] بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔
قدرت کاملہ کا ثبوت ٭٭
فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں فنا کر کے دوبارہ پیدا کرے گا۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے؟ آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورۃ الطارق میں فرمایا «وَالسَّمَاءِذَاتِالرَّجْعِ» * «وَالْأَرْضِذَاتِالصَّدْعِ»۱؎[86-الطارق:12-11] ’ پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ ‘
اور آیت میں ہے «هُوَالَّذِيخَلَقَالسَّمَاوَاتِوَالْأَرْضَفِيسِتَّةِأَيَّامٍثُمَّاسْتَوَىٰعَلَىالْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُمَايَلِجُفِيالْأَرْضِوَمَايَخْرُجُمِنْهَاوَمَايَنزِلُمِنَالسَّمَاءِوَمَايَعْرُجُفِيهَا ۖ وَهُوَمَعَكُمْأَيْنَمَاكُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُبِمَاتَعْمَلُونَبَصِيرٌ» ۱؎[57-الحديد:4] ’ یعنی اللہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمان میں سما جائے اور جو زمین سے باہر اگ آئے۔ اور جو آسمان سے اترے اور جو اس پر چڑھے۔ پس آسمان سے مینہ برسانے والا اسے زمین میں ادھر اھر تک پہنچانے والا اور اس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل پھول اناج گھاس پات اگانے والا وہی ہے جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی روزیاں ہیں۔ ‘ یقیناً یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لیے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کر سکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو؟ لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لیے دوسری آیت میں فرما دیا کہ «وَمَنيَدْعُمَعَاللَّـهِإِلَـٰهًاآخَرَلَابُرْهَانَلَهُبِهِفَإِنَّمَاحِسَابُهُعِندَرَبِّهِ ۚ إِنَّهُلَايُفْلِحُالْكَافِرُونَ»۱؎[23-المؤمنون:117] ’ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقیناً کافر ہے اور نجات سے محروم ہے۔‘
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔