فرماتا ہے کہ ’ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اس کی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اس کی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعد حضور علیہ السلام تک اور کوئی نبی نہ تھا ‘۔ «وَإِذْقَالَعِيسَىابْنُمَرْيَمَيَابَنِيإِسْرَائِيلَإِنِّيرَسُولُاللَّـهِإِلَيْكُممُّصَدِّقًالِّمَابَيْنَيَدَيَّمِنَالتَّوْرَاةِوَمُبَشِّرًابِرَسُولٍيَأْتِيمِنبَعْدِياسْمُهُأَحْمَدُفَلَمَّاجَاءَهُمبِالْبَيِّنَاتِقَالُواهَـٰذَاسِحْرٌمُّبِينٌ»۱؎[61-الصف:6] یعنی عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ ’ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت تمہیں سناتا ہوں ‘۔ زبور داؤ دعلیہ السلام کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت «وَكُلُّشَيْءٍفَعَلُوْهُفِيالزُّبُرِ»۱؎[54-القمر:52] ’ جو کچھ یہ کر رہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں ‘۔ ان میں سے جو حق گو اور بے تعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی خبر ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ وانجیل کی وہ آیتیں «الَّذِينَيَتَّبِعُونَالرَّسُولَالنَّبِيَّالْأُمِّيَّالَّذِييَجِدُونَهُمَكْتُوبًاعِندَهُمْفِيالتَّوْرَاةِوَالْإِنجِيلِ» إلخ ۱؎[7-الأعراف:157] رکھ دیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔
اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَوْفَتَحْنَاعَلَيْهِمبَابًامِّنَالسَّمَاءِفَظَلُّوافِيهِيَعْرُجُونَلَقَالُواإِنَّمَاسُكِّرَتْأَبْصَارُنَابَلْنَحْنُقَوْمٌمَّسْحُورُونَ»۱؎[15-الحجر:14،15] کہ ’ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لیے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلا دیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَوْأَنَّنَانَزَّلْنَاإِلَيْهِمُالْمَلَائِكَةَوَكَلَّمَهُمُالْمَوْتَىٰوَحَشَرْنَاعَلَيْهِمْكُلَّشَيْءٍقُبُلًامَّاكَانُوالِيُؤْمِنُوا»۱؎[6-الأنعام:111] ’ اگر ان کے پاس فرشتے آ جاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا ‘۔ «إِنَّالَّذِينَحَقَّتْعَلَيْهِمْكَلِمَتُرَبِّكَلَايُؤْمِنُونَوَلَوْجَاءَتْهُمْكُلُّآيَةٍحَتَّىٰيَرَوُاالْعَذَابَالْأَلِيمَ»۱؎[10-يونس:96-97] ’ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہو چکا، عذاب ان کا مقدر ہو چکا اور ہدایت کی راہ مسدود کر دی گئی ‘۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔