اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔
En
اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے
جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں
En
مشرکوں کو اللہ واحد ڈرا رہا ہے اور بیان فرما رہا ہے کہ ان کے پاس ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور جواب شرط «فَاِنَّمَا» والے جملے کے ضمن میں ہے یعنی اس کا حساب اللہ کے ہاں ہے۔ کافر اس کے پاس کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وہ نجات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تو کس کس کو پوجتا ہے؟ اس نے کہا صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کام آنے والا وہی ہے تو پھر اس کے ساتھ ان دوسروں کی عبادت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اکیلا تجھے کافی نہ ہو گا؟ جب اس نے کہا یہ تو نہیں کہہ سکتا، البتہ ارادہ یہ ہے کہ اوروں کی عبادت کر کے اس کا پورا شکر بجا لاسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سبحان اللہ! علم کے ساتھ یہ بےعلمی؟ جانتے ہو اور پھر انجان بنے جاتے ہو؟ اب کوئی جواب بن نہ پڑا۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو جانے کے بعد کہا کرتے تھے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائل کر لیا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ترمذی میں سنداً بھی مروی ہے۔ پھر ایک دعا تعلیم فرمائی گئی۔ غفر کے معنی جب وہ مطلق ہو تو گناہوں کو مٹا دینے اور انہیں لوگوں سے چھپا دینے کے آتے ہیں۔ اور رحمت کے معنی صحیح راہ پر قائم رکھنے اور اچھے اقوال و افعال کی توفیق دینے کے ہوتے ہیں۔ الحمدللہ سورۃ مومنون کی تفسیر ختم ہوئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔