ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ طه (20) — آیت 9

وَ ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
اور کیا تیرے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے؟ En
اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے
En
تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے؟ En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آگ کی تلاش ٭٭
یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کر چکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے۔
سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے۔ پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا، ابر چھایا ہوا تھا۔ ہر چند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا، اس طرف آگ سی نظر آ رہی ہے، میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی آدمی مل جائے جو راستہ بھی بتا دے۔ بہر صورت راستے کا پتہ یا آگ مل ہی جائے گی۔