اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی
En
کچھ ضروری نہیں کہ طالب دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لیے وہاں رحمت الٰہی سے دور ہیں۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں گھر نہ ہو، یہ اس کا مال ہے جس کا آخرت میں مال نہ ہو، اسے وہی جمع کرتا رہتا ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو۔ } ۱؎[مسند احمد:71/6:قال الشيخ الألباني:ضعیف] ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت ہو جائے اور آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب و ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو، اللہ و رسول کو مانتا ہو، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔