ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 79

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بے شک وہ دونوں (بستیاں) یقینا ظاہر راستے پر موجود ہیں۔ En
تو ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا۔ اور یہ دونوں شہر کھلے رستے پر (موجود) ہیں
En
جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اصحاب ایکہ کا المناک انجام ٭٭
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔
شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ» ۱؎ [11-هود:89]‏‏‏‏ ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔