ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 78

وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾
اور بے شک ’’ایکہ‘‘ والے یقینا ظالم تھے۔ En
اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے
En
اَیکَہ بستی کے رہنے والے بھی بڑے ﻇالم تھے En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اصحاب ایکہ کا المناک انجام ٭٭
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔
شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ» ۱؎ [11-هود:89]‏‏‏‏ ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔