ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 65

فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾
پس تو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے چل اور خود ان کے پیچھے پیچھے چل اور تم میںسے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جائو جہاں تمھیں حکم دیا جاتا ہے۔ En
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
En
اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جانا En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام کو ہدایات ٭٭
حضرت لوط علیہ السلام سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ ’ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ علیہ السلام ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں ‘۔
یہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔
پھر فرما دیا کہ ’ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا ‘، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ’ ہم نے پہلے ہی سے لوط (‏‏‏‏علیہ السلام) سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے ‘۔
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «نَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ» ۱؎ [11-ھود:81]‏‏‏‏ ’ ان کے عذاب کا وقت صبح ہے جو بہت ہی قریب ہے ‘۔