ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 62

قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
تو اس نے کہا تم تو ایسے لوگ ہو جن کی جان پہچان نہیں۔ En
تو لوط نے کہا تم تو ناآشنا سے لوگ ہو
En
تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دو حسین لڑکے ٭٭
یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔
تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8]‏‏‏‏ اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔