اور جس دن وہ انھیں اکٹھا کرے گا، گویا وہ نہیں ٹھہرے مگر دن کی ایک گھڑی، آپس میں جان پہچان کرتے رہے۔ بے شک وہ لوگ خسارے میں رہے جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور وہ راہ پانے والے نہ ہوئے۔
En
اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے
اور ان کو وه دن یاد دﻻئیے جس میں اللہ ان کو (اپنے حضور) جمع کرے گا (تو ان کو ایسا محسوس ہوگا) کہ گویا وه (دنیا میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں گے۔ واقعی خسارے میں پڑے وه لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وه ہدایت پانے والے نہ تھے
En
بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ وقت بھی آ رہا ہے جب قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے اٹھا کر میدان قیامت میں جمع کرے گا ‘۔ «كَأَنَّهُمْيَوْمَيَرَوْنَهَالَمْيَلْبَثُواإِلَّاعَشِيَّةًأَوْضُحَاهَا»۱؎[79-النازعات:46] ’ اس وقت انہیں ایسا معلوم ہو گا کہ گویا گھڑی بھر دن ہم رہے تھے۔ صبح یا شام ہی تک ہمارا رہنا ہوا تھا ‘۔ «يَوْمَيُنفَخُفِيالصُّورِوَنَحْشُرُالْمُجْرِمِينَيَوْمَئِذٍزُرْقًايَتَخَافَتُونَبَيْنَهُمْإِنلَّبِثْتُمْإِلَّاعَشْرًانَّحْنُأَعْلَمُبِمَايَقُولُونَإِذْيَقُولُأَمْثَلُهُمْطَرِيقَةًإِنلَّبِثْتُمْإِلَّايَوْمًا»۱؎[20-طه:102-104] ’ کہیں گے کہ دس روز دنیا میں گزارے ہوں گے، تو بڑے بڑے حافظے والے کہیں گے کہاں کے دس دن تم تو ایک ہی دن رہے ‘۔ «وَيَوْمَتَقُومُالسَّاعَةُيُقْسِمُالْمُجْرِمُونَمَالَبِثُواغَيْرَسَاعَةٍكَذَٰلِكَكَانُوايُؤْفَكُونَوَقَالَالَّذِينَأُوتُواالْعِلْمَوَالْإِيمَانَلَقَدْلَبِثْتُمْفِيكِتَابِاللَّـهِإِلَىٰيَوْمِالْبَعْثِفَهَـٰذَايَوْمُالْبَعْثِوَلَـٰكِنَّكُمْكُنتُمْلَاتَعْلَمُونَ»۱؎[30-الروم:55-56] ’ قیامت کے دن یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت ہی رہے ‘ وغیرہ۔ ایسی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ دنیا کی زندگی آج بہت تھوڑی معلوم ہوگی۔ سوال ہوگا کہ «قَالَكَمْلَبِثْتُمْفِيالْأَرْضِعَدَدَسِنِينَقَالُوالَبِثْنَايَوْمًاأَوْبَعْضَيَوْمٍفَاسْأَلِالْعَادِّينَ»۱؎[23-المؤمنون:112-114] کتنے سال دنیا میں گزارے، جواب دیں گے کہ ایک دن بلکہ اسے بھی کم شمار والوں سے پوچھ لو۔ جواب ملے گا کہ واقعہ میں دار دنیادار آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اور فی الحقیقت وہاں کی زندگی بہت ہی تھوڑی تھی لیکن تم نے اس کا خیال زندگی بھر نہ کیا۔ اس وقت بھی ہر ایک دوسرے کو پہچانتا ہو گا جیسے دنیا میں تھے ویسے ہی وہاں بھی ہوں گے رشتے کنبے کو، باپ بیٹوں الگ الگ پہنچان لیں گے۔ لیکن ہر ایک نفسا نفسی میں مشغول ہوگا۔ جیسے فرمان الٰہی ہے کہ «فَإِذَانُفِخَفِيالصُّورِفَلَاأَنسَابَبَيْنَهُمْيَوْمَئِذٍوَلَايَتَسَاءَلُونَ»۱؎[23-المؤمنون:101] ’ صور کے پھونکتے ہی حسب و نسب فنا ہو جائیں گے، کوئی دوست اپنے کسی دوست سے کچھ سوال تک نہ کرے گا ‘۔ «وَيْلٌيَوْمَئِذٍلِّلْمُكَذِّبِينَ»۱؎[77-المرسلات:15] ’ جو اس دن کو جھٹلاتے رہے وہ آج گھاٹے میں رہیں گے ان کے لیے ہلاکت ہو گی انہوں نے اپنا ہی برا کیا اور اپنے والوں کو بھی برباد کیا ‘۔ اس سے بڑھ کر خسارہ اور کیا ہوگا کہ ایک دوسرے سے دور ہے دوستوں کے درمیان تفریق ہے، حسرت و ندامت کا دن ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔