(آیت 8) {فَاَلْهَمَهَافُجُوْرَهَاوَتَقْوٰىهَا: ”لَهِمَيَلْهَمُلَهْمًا“ (س) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔ {”أَلْهَمَاللّٰهُيُلْهِمُإِلْهَامًا“} (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیزگاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورۂ دہر (۳) اور سورۂ بلد (۱۰)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں