ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشمس (91) — آیت 8

فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾
پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری ( کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔ En
پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی
En
پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) {فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا: لَهِمَ يَلْهَمُ لَهْمًا (س) اَلشَّيْءَ} کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔ { أَلْهَمَ اللّٰهُ يُلْهِمُ إِلْهَامًا } (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیزگاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورۂ دہر (۳) اور سورۂ بلد (۱۰)۔