ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشمس (91) — آیت 13

فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقۡیٰہَا ﴿ؕ۱۳﴾
تو ان سے اللہ کے رسول نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری (کا خیال رکھو)۔ En
تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو
En
انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاﻇت کرو) En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْيٰهَا: نَاقَةَ اللّٰهِ } (اللہ کی اونٹنی) فعل محذوف {اِتَّقُوْا} کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ نسبت اس اونٹنی کے شرف اور خصوصیت کی وجہ سے ہے، (جیسے بیت اللہ میں ہے) ورنہ سب اونٹنیاں اللہ ہی کی ہیں۔