ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 82

فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّ لۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پس وہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں، اس کے بدلے جو وہ کمائی کرتے رہے ہیں۔ En
یہ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا
En
پس انہیں چاہئے کہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیاده روئیں بدلے میں اس کے جو یہ کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت82) {فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّ لْيَبْكُوْا كَثِيْرًا:} کیونکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے، فانی اور باقی کا کیا مقابلہ؟ اس لیے ان کا ہنسنا بہت ہی کم عرصے کے لیے اور رونا بے حد وحساب مدت کے لیے ہے جس کی انتہا ہی نہیں۔ یہ بظاہر حکم ہے مگر منافقین حکم ماننے والے کب تھے، اس لیے یہ امر کے الفاظ میں خبر دی جا رہی ہے، یعنی یہ لوگ بہت کم ہنسیں گے اور بہت زیادہ روئیں گے۔ { جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ } سے اس امر کے بمعنی خبر ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ خبر میں تو صدق و کذب کا بھی احتمال ہوتا ہے، مگر انشاء (امر و نہی) میں اس کا احتمال ہی نہیں ہوتا، وہ حتمی ہوتی ہے (اگرچہ اللہ تعالیٰ کی خبر میں بھی کذب کا احتمال نہیں)۔ (المنار) اسی آیت کی ہم معنی وہ حدیث ہے کہ اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو یقینا تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔ [بخاری، الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف: ۱۰۴۴]