(آیت 24،23) {اِلَّامَنْتَوَلّٰىوَكَفَرَ …:} مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو منہ موڑ کر کفر پر اصرار کرتا ہے اسے پوچھا ہی نہ جائے، بلکہ اگر وہ کافر ہی رہنا چاہتا ہے تو رہے، مگر مسلمانوں کی حکومت تسلیم کرے، اپنے ہاتھوں سے انھیں جزیہ دے اور اپنی ذلت کا اقرار کرے (یہ دنیا کا عذاب ہے) ورنہ لڑنے کے لیے تیار رہے۔ (دیکھیے توبہ: ۲۹) اور قیامت کو اس کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں غلامی سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آخرت میں آگ سے بڑا عذاب کوئی نہیں، دونوں عذاب اکبر ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔