ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الغاشية (88) — آیت 1

ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾
کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی کی خبر پہنچی؟ En
بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے
En
کیا تجھے بھی چھپا لینے والی (قیامت) کی خبر پہنچی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2،1) {هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ …: الْغَاشِيَةِ غَشِيَ يَغْشٰي} (س) سے اسم فاعل ہے، ڈھانپ لینے والی۔ مراد قیامت ہے جو ہر چیز پر چھا جائے گی۔