ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الطارق (86) — آیت 14

وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾
اور یہ ہر گز مذاق نہیں ہے ۔ En
اور بیہودہ بات نہیں ہے
En
یہ ہنسی کی (اور بے فائده) بات نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14){ وَ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ:} یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی بات تم سے مذاق کے ساتھ نہیں کہی جا رہی، یہ حکیم و علیم کا قول ہے، کسی جاہل کا نہیں جو مذاق کر رہا ہو۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان سے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کر رہے ہیں تو انھوں نے فرمایا: «‏‏‏‏اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۶۷] میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔