ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الطارق (86) — آیت 11

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾
قسم ہے آسمان کی جو بار بار بارش برسانے والا ہے! En
آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے
En
بارش والے آسمان کی قسم! En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12،11){ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ …: الرَّجْعِ } کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب سورۃ الطارق، بعد ح: ۴۹۴۰] اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ { الرَّجْعِ } کا لفظی معنی لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لیے اسے رجع کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھاپ بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر برستا ہے، اس لیے اسے رجع کہا ہے۔ { الصَّدْعِ } کا معنی پھٹنا ہے۔