ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ البروج (85) — آیت 8

وَ مَا نَقَمُوۡا مِنۡہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ﴿۸﴾
اور انھوں نے ان سے اس کے سوا کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو سب پر غالب ہے، ہر تعریف کے لائق ہے ۔ En
ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے
En
یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) ➊ {وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ …:} ان اہلِ ایمان نے ان ظالموں پر یا کسی دوسرے پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس کا وہ بدلا لے رہے ہوں، ان کا جرم صرف اللہ پر ایمان لا کر اس پر قائم رہنا تھا۔ آیت میں { اِلَّاۤ اَنْ يُّؤْمِنُوْا } فرمایا ہے جو حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے، {إِلَّا أَنْ آمَنُوْا} نہیں فرمایا جوماضی کا صیغہ ہے، یعنی ان کا جرم یہی نہ تھا کہ وہ ایمان لے آئے تھے، بلکہ یہ تھا کہ وہ اب بھی ایمان پر قائم تھے۔
➋ { بِاللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ:} یعنی ان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کوئی جرم یا غلط کام نہ تھا، بلکہ وہ اس اللہ پر ایمان رکھتے تھے جو عزیز و حمید ہے اور آئندہ آیت میں مذکور صفات کا مالک ہے اور ان صفات کی وجہ سے اس کا حق ہے کہ اس پر ایمان رکھا جائے۔ یہ قرآن مجید کاخاص اسلوب ہے کہ واقعات بیان کرتے ہوئے بھی وہ عقائد کی درستی اور احکام کی وضاحت کا اہتمام جاری رکھتا ہے، اس کی ایک مثال یہ آیت ہے۔