(آیت 12){ اِنَّبَطْشَرَبِّكَلَشَدِيْدٌ: ”بَطْشَ“} وہ پکڑ جس میں تیزی اور سختی پائی جائے۔ رب تعالیٰ کی بطش جسے وہ خود شدید بتا رہا ہے، کس قدر سخت ہوگی؟ اہل ایمان کو ایذا پہنچانے والوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ رب تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے، اس سے بچ جاؤ۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَكَذٰلِكَاَخْذُرَبِّكَاِذَاۤاَخَذَالْقُرٰىوَهِيَظَالِمَةٌاِنَّاَخْذَهٗۤاَلِيْمٌشَدِيْدٌ»[ھود: ۱۰۲]”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو اس حال میں پکڑتا ہے کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، یقینا اس کی پکڑ بڑی دردناک ہے، بہت سخت ہے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔