ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾
اے انسان! بے شک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے ۔ En
اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا
En
اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ …: كَادِحٌ كَدَحَ يَكْدَحُ} (ف) خوب کوشش کرنا، مشقت جھیلنا، زخمی کرنا۔ { اِلٰى } کے لفظ سے اس میں رب تعالیٰ کی طرف جانے کا مفہوم ادا ہو رہا ہے، یعنی اے انسان! تو زندگی بھر کسی نہ کسی کام کی مشقت میں مبتلا رہ کر آخر کار اچھے یا برے اعمال لے کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے والا ہے۔