(آیت 25){ اِلَّاالَّذِيْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ …: ”غَيْرُمَمْنُوْنٍ“”مَنَّيَمُنُّ“} (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعول ہے، کہا جاتا ہے: {”مَنَنْتُالْحَبْلَ“} ”میں نے رسی کاٹ دی۔“ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہو گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔