ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 25

اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴿٪۲۵﴾
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ En
ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے
En
ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25){ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …: غَيْرُ مَمْنُوْنٍ مَنَّ يَمُنُّ} (ن) (قطع کرنا) سے اسم مفعول ہے، کہا جاتا ہے: { مَنَنْتُ الْحَبْلَ} میں نے رسی کاٹ دی۔ یعنی ایسا اجر جو کبھی قطع نہیں کیا جائے گا۔ مراد جنت ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، جس کی کوئی نعمت نہ کم ہوگی اور نہ ختم ہو گی۔