ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 2

وَ اَذِنَتۡ لِرَبِّہَا وَ حُقَّتۡ ۙ﴿۲﴾
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور یہی اس کا حق ہے۔ En
اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے
En
اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا اور اسی کے ﻻئق وه ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2){ وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ: اَذِنَتْ } (س) کان لگانا، غور سے سننا، یعنی غور سے سن کر اطاعت کرے گا۔ اسی طرح زمین حکم سنتے ہی وہ سب کچھ باہر پھینک دے گی جو اس میں ہے۔ { حُقَّتْ هُوَحَقِيْقٌ بِكَذَا أَوْ مَحْقُوْقٌ بِكَذَا} سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس چیز کے لائق ہے۔ اس کا نائب فاعل { السَّمَآءُ } کی ضمیر ہے۔ بیضاوی نے فرمایا: { حُقَّتْ أَيْ جُعِلَتْ حَقِيْقَةً بِالْاِسْتِمَاعِ وَالْاِنْقِيَادِ۔} زمخشری نے فرمایا: { وَ هِيَ حَقِيْقَةٌ بِأَنْ تَنْقَادَ وَلَا تَمْتَنِعَ۔} زمین و آسمان کو اللہ کا حکم سن کر اطاعت سے انکار کی جرأت ہی نہیں، یہ صرف انسان ہی ہے کہ اللہ کے احکام نہ کان لگا کر سنتا ہے اور نہ اطاعت کرتا ہے۔