(آیت 2){ وَاَذِنَتْلِرَبِّهَاوَحُقَّتْ: ”اَذِنَتْ“} (س) کان لگانا، غور سے سننا، یعنی غور سے سن کر اطاعت کرے گا۔ اسی طرح زمین حکم سنتے ہی وہ سب کچھ باہر پھینک دے گی جو اس میں ہے۔ {”حُقَّتْ“”هُوَحَقِيْقٌبِكَذَاأَوْمَحْقُوْقٌبِكَذَا“} سے ماخوذ ہے، یعنی وہ اس چیز کے لائق ہے۔ اس کا نائب فاعل {”السَّمَآءُ“} کی ضمیر ہے۔ بیضاوی نے فرمایا: {”حُقَّتْ“أَيْجُعِلَتْحَقِيْقَةًبِالْاِسْتِمَاعِوَالْاِنْقِيَادِ۔“} زمخشری نے فرمایا: {”وَهِيَحَقِيْقَةٌبِأَنْتَنْقَادَوَلَاتَمْتَنِعَ۔“} زمین و آسمان کو اللہ کا حکم سن کر اطاعت سے انکار کی جرأت ہی نہیں، یہ صرف انسان ہی ہے کہ اللہ کے احکام نہ کان لگا کر سنتا ہے اور نہ اطاعت کرتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔