(آیت 34){ فَالْيَوْمَالَّذِيْنَاٰمَنُوْا …:} یعنی قیامت کے دن معاملہ الٹ ہو جائے گا، اب اہلِ ایمان کفار پر ہنستے ہوں گے کہ یہ لوگ کس درجہ احمق تھے کہ خود گمراہ ہونے کے باوجود ہمیں گمراہ کہتے تھے اور واضح دلائل کے باوجود نہ انھوں نے پیدا کرنے والے کا حق پہچانا اور نہ آخرت کی فکر کی اور یہ جانتے ہوئے بھی دنیا کی لذتوں میں مست رہے کہ یہ عارضی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔