(آیت 7){ وَاِذَاالنُّفُوْسُزُوِّجَتْ:} ”اور جب جانیں ملائی جائیں گی“ اس کی دو تفسیریں ہیں، پہلی یہ کہ جانیں جسموں کے ساتھ ملائی جائیں گی۔ یہاں سے دوسرے نفخہ کے بعد کے حالات ہیں، تو سب دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ دوسری یہ کہ جانوں کی قسمیں بنا دی جائیں گی، نیکوں کو نیکوں کے ساتھ اور گناہ گاروں کو گناہ گاروں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اُحْشُرُواالَّذِيْنَظَلَمُوْاوَاَزْوَاجَهُمْوَمَاكَانُوْايَعْبُدُوْنَ» [الصافات: ۲۲]”جمع کرو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے ہم شکلوں کو اور ان کو جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔“ دوسری تفسیر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمائی ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب: «إذا الشمس کورت» ، بعد ح: ۴۹۳۷]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔