ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 23

وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا اس نے اس ( جبریل) کو ( آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔ En
بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے
En
اس نے اس (فرشتے) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) {وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ:} روشن کنارے سے مراد آسمان کا مشرقی کنارا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک دفعہ زمین پر اور دوسری دفعہ آسمان پر۔ (دیکھیے نجم:۱ تا ۱۸) یہاں پہلی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا۔ [دیکھیے بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم أمین…: ۳۲۳۲ تا ۳۲۳۵]