(آیت 2) {وَاِذَاالنُّجُوْمُانْكَدَرَتْ: ”انْكَدَرَتْ“} طبری نے اس کے دو معانی نقل فرمائے ہیں، پہلا {”تَنَاثَرَتْ“} یعنی بکھر کر گر جائیں گے اور دوسرا {”تَغَيَّرَتْ“} یعنی متغیر ہو جائیں گے۔ کدورت صفائی کی ضد ہے۔ دونوں معانی ملحوظ رکھے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ستارے بکھر کر گر جائیں گے، ان کی روشنی اور صفائی ختم ہو جائے گی اور وہ بے نور ہو جائیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔