(آیت 31) {وَفَاكِهَةًوَّاَبًّا:”اَبًّا“} زمین سے اگنے والی وہ نباتات جسے جانور کھاتے ہیں، لوگ نہیں کھاتے۔ (طبری عن ابن عباس وغیرہ) یہ{”أَبَّ“} (ن) (قصد کرنا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی ”قصد کیا ہوا“ کیونکہ جانور اس کی طرف لپکتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔