ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ عبس (80) — آیت 2

اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾
اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا۔ En
کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا
En
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2){ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى:} (اس لیے تیوری چڑھائی) کہ اس کے پاس نابینا آیا، حالانکہ نابینا تو زیادہ لطف و کرم کا مستحق تھا۔ پھر اگر اس کے دین کی بات پوچھنے سے کسی چودھری کے ساتھ کلام قطع ہوا ہے، جس کے اسلام لانے کی آپ کو امید تھی اور اس وجہ سے تیوری پڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور؟ وہ تو نابینا ہے، اسے کیا پتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں؟