ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 38

قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرۡ لَہُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ ۚ وَ اِنۡ یَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۸﴾
ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا، اگر وہ باز آجائیں تو جو کچھ گزر چکا انھیں بخش دیا جائے گا اور اگر پھر ایسا ہی کریں تو پہلے لوگوں کا طریقہ گزر ہی چکا ہے۔ En
(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)
En
آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ {قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّنْتَهُوْا: نَهٰي يَنْهَي} منع کرنا اور { اِنْتَهَي يَنْتَهِيْ} باز آ جانا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ عذاب کی ان تمام وعیدوں کے باوجود امید کا دروازہ کھلا ہے۔ چنانچہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ آپ ان منکروں سے کہہ دیں کہ اب بھی اگر وہ عناد اور کفر سے باز آ جائیں، اسلام میں داخل ہو جائیں اور ایک اللہ کی عبادت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اختیار کر لیں تو ان کے پہلے قصور معاف کر دیے جائیں گے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کی طرف مائل کیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے کہ میں بیعت کروں۔ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا، آپ نے فرمایا: عمرو! تمھیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: کس چیز کی شرط کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمھیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتا ہے اور ہجرت اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتی ہے اور حج اپنے سے پہلے گناہ گرا دیتا ہے۔ [مسلم، الإیمان، باب کون الإیمان یہدم ما قبلہ: ۱۲۱]
باز آ جانے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلام لا کر اپنی حالت بھی بدلیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ! کیا ہم نے جو کچھ جاہلیت میں کیا اس پر ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اسلام میں اچھے عمل کرے گا تو اس سے جاہلیت میں کیے ہوئے اعمال کا مؤاخذہ نہیں ہو گا اور جس نے اسلام میں برے عمل کیے وہ پہلے اور پچھلے اعمال کے ساتھ پکڑا جائے گا۔ [بخاری، استتابۃ المرتدین والمعاندین و قتالہم، باب إثم من أشرک…: ۶۹۲۱]
➋ {وَ اِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِيْنَ:} یعنی اگر پھر اسلام کو اکھیڑنے اور مسلمانوں کی طاقت ختم کرنے کا منصوبہ بنائیں تو جس طرح پہلے لوگ تباہ و برباد ہوئے، جنھوں نے انبیاء کو ستایا اور ان سے جنگ کی اسی طرح یہ بھی تباہ و برباد ہوں گے اور اس سے پہلے جنگ بدر میں ان کا جو حشر ہوا اب بھی وہی ہو گا۔ (ابن کثیر)