ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 21

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ ہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ En
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے
En
اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حاﻻنکہ وه سنتے (سناتے کچھ) نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) {وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا …:} ان سے مراد مشرکین، منافقین اور اہل کتاب ہیں جو کانوں سے تو اللہ اور اس کے رسول کا کلام سنتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ نہیں سنتے، کیونکہ نہ وہ دل سے سنتے ہیں اور نہ قبول کرتے ہیں، ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۴۶)۔